آئینہ ابصار

علمی، ادبی، مذہبی، سیاسی اور سماجی موضوعات

جسم و جاں تک یہ آگ آ پہنچی، از، مونا فاروق

سوشل میڈیا پر شئیر کریں

طاہر اشرفی، ٹیلی گراف کی تحقیق اور توہینِ مذہب کا کاروبار —

پاکستان میں توہینِ مذہب کا قانون ایک عرصے سے صرف قانون نہیں رہا۔ اس کے گرد ایک ایسا خوف، دباؤ اور طاقت کا نظام تشکیل پا چکا ہے جس میں ایک الزام کسی انسان کی پوری زندگی تباہ کرنے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ اور جب کسی ایسے قانون کے ساتھ ریاستی اختیار، مذہبی جذبات، پولیس کی طاقت اور معاشرتی جنون یکجا ہو جائیں تو پھر سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ توہین ہوئی یا نہیں ہوئی؛ اصل سوال یہ بن جاتا ہے کہ الزام کس نے لگایا، کیوں لگایا، کس کے مفاد میں لگایا، اور اس الزام سے فائدہ کس نے اٹھایا۔

حالیہ دنوں میں برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی ایک تحقیق نے اسی سوال کو ایک بار پھر پاکستان کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ یہ تحقیق اس وقت سامنے آئی جب پاکستان کے معروف مذہبی رہنما حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کو لندن کے لیمبتھ پیلس میں Archbishop of Canterbury کی جانب سے بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے Hubert Walter Award دیا گیا، اور چند ہی روز بعد یہ ایوارڈ واپس لے لیا گیا۔ لیمبتھ پیلس نے 17 ستمبر کو تصدیق کی کہ اشرفی کے ماضی کے بعض تبصرے سامنے آنے کے بعد ایوارڈ واپس لے لیا گیا ہے۔

لیکن اس واقعے کے ساتھ ٹیلی گراف کی تحقیق نے ایک کہیں زیادہ سنگین سوال اٹھایا: طاہر اشرفی کے بھائی حسن معاویہ اشرفی پر ایک ایسے مبینہ نیٹ ورک سے وابستگی کے الزامات کیا ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو پھانس کر ان پر توہینِ مذہب کے مقدمات بنوانے، انہیں اغوا کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور بعض معاملات میں ان کے خاندانوں سے رقم طلب کرنے میں ملوث بتایا جاتا ہے؟ ٹیلی گراف نے پولیس چارج شیٹس اور دیگر دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ حسن معاویہ نے گزشتہ چار برسوں میں کم از کم 26 افراد کے خلاف توہینِ مذہب کی شکایات درج کرائی تھیں۔

یہاں ایک لمحے کے لیے رک کر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ صرف کسی ایک شخص یا خاندان کے بارے میں لگائے گئے الزامات نہیں ہیں۔ پاکستان میں توہینِ مذہب کے قانون کے غلط استعمال کا مسئلہ اس سے کہیں بڑا اور پرانا ہے۔ خود امریکی محکمۂ خارجہ کی 2022 کی مذہبی آزادی سے متعلق رپورٹ کے مطابق اس سال کم از کم 52 افراد پر توہینِ مذہب یا مذہب سے متعلق دیگر فوجداری الزامات عائد کیے گئے، جن میں 49 احمدی تھے۔ اسی رپورٹ کے مطابق 1987 سے 2021 کے درمیان تقریباً 1,949 افراد پر مذہب سے متعلق جرائم کے الزامات لگائے گئے، جن میں توہینِ مذہب کی دفعات کے ساتھ احمدیوں کے خلاف مخصوص قانونی دفعات بھی شامل تھیں۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں حالیہ انکشافات ایک بہت پرانی حقیقت سے جا ملتے ہیں۔

پاکستان میں مذہب کے نام پر قانون کے استعمال کی تاریخ محض چند برس پرانی نہیں۔ 1974 میں آئینی ترمیم کے ذریعے احمدیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا، جبکہ 1984 میں آرڈیننس XX کے ذریعے تعزیراتِ پاکستان میں ایسی دفعات شامل کی گئیں جنہوں نے احمدیوں کے لیے اپنے مذہبی عقائد اور اسلامی اصطلاحات کے استعمال کو بھی فوجداری جرم کے دائرے میں لا کھڑا کیا۔ آج بھی قانون احمدیوں کو مسلمان کے طور پر اپنی شناخت ظاہر کرنے، اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے، اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے اور بعض مذہبی رسومات ادا کرنے سے روکتا ہے۔

یہاں ایک نہایت اہم فرق سمجھنا ہوگا۔ احمدیوں کے خلاف قانون کا استعمال کسی انفرادی شخص کی شکایت سے شروع ہونے والا ایک الگ تھلگ واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایک باقاعدہ قانونی ڈھانچے کا حصہ ہے۔ اسی لیے جب ہم آج یہ سنتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو مبینہ طور پر ایسے مواد کی طرف دھکیلا جاتا ہے جس کی بنیاد پر بعد میں ان کے خلاف توہینِ مذہب کے مقدمات بن سکتے ہیں، تو یہ محض ایک نیا طریقۂ واردات نہیں؛ یہ اسی وسیع تر ماحول کی ایک نئی شکل ہے جس میں مذہب اور فوجداری قانون کو انسانی کمزوریوں، ذاتی دشمنیوں اور مفادات کے لیے استعمال کرنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

اور احمدیوں کا معاملہ اس کی ایک واضح مثال ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق طاہر اشرفی کے بھائی محمد حسن معاویہ نے ان احمدیوں کے خلاف بھی مقدمہ دائر کیا تھا جن پر قرآن کے نسخے شائع کرنے سے متعلق سائبر قوانین اور توہینِ مذہب کی دفعات کے تحت کارروائی کی گئی۔ رپورٹ میں واضح طور پر درج ہے کہ یہ مقدمہ حسن معاویہ کی درخواست پر شروع ہوا تھا۔

یہی وہ پس منظر ہے جس میں طاہر اشرفی کی اپنی سیاسی و سرکاری حیثیت کو بھی دیکھنا چاہیے۔ ستمبر 2020 میں عمران خان کی حکومت نے انہیں وزیراعظم کا Special Representative on Religious Harmony مقرر کیا تھا، اور سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تقرری اعزازی حیثیت میں تھی۔ پھر جنوری 2026 میں شہباز شریف کی حکومت نے انہیں Coordinator for Religious Harmony and the Pakistani Diaspora in the Middle East and Muslim Countries مقرر کر دیا۔ یعنی مختلف سیاسی ادوار اور مختلف حکومتوں کے باوجود مذہبی امور کے میدان میں ریاست نے ان پر اعتماد برقرار رکھا۔

یہ حقیقت بذاتِ خود کسی جرم کا ثبوت نہیں، اور نہ ہی کسی سرکاری عہدے پر فائز ہونا کسی شخص کے خلاف لگائے گئے الزامات کو ثابت کرتا ہے۔ لیکن یہ سوال ضرور پیدا کرتا ہے کہ پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کے سرکاری تصور کی بنیاد کن لوگوں اور کن آوازوں پر رکھی جاتی رہی ہے، اور اس تصور میں ان مذہبی برادریوں کی حفاظت کہاں کھڑی ہے جنہیں خود مذہبی قوانین کے تحت سب سے زیادہ قانونی اور معاشرتی دباؤ کا سامنا ہے۔

2020 ہی میں جب قومی کمیشن برائے اقلیتی امور میں احمدیوں کی شمولیت کا معاملہ سامنے آیا تو حکومت نے انہیں اس کمیشن سے باہر رکھا۔ امریکی محکمۂ خارجہ کی رپورٹ نے بھی اس فیصلے کو ریکارڈ کیا اور بتایا کہ اس پر مذہبی آزادی کے کارکنوں اور سول سوسائٹی نے اعتراضات اٹھائے تھے۔

اس پس منظر میں یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ مذہب کے نام پر قانون کے استعمال کا مسئلہ صرف ان لوگوں کا مسئلہ نہیں جنہیں آج کل سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر پھنسایا جا رہا ہے۔ یہ اس سے کہیں پرانا سوال ہے کہ جب ریاست کسی مذہبی شناخت کو قانونی طور پر کم تر یا مشتبہ حیثیت دے دیتی ہے تو پھر اسی قانون کا دائرہ وقت کے ساتھ کہاں تک پھیلتا ہے۔

اور اب فیکٹ فوکس کی تحقیق اس سوال کو ایک اور سطح پر لے جاتی ہے۔

صحافی احمد نورانی کی فیکٹ فوکس پر جولائی 2024 کی تحقیق نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں 400 سے زائد نوجوان توہینِ مذہب کے مقدمات میں پھنسائے یا گرفتار کیے گئے، اور اس کے پیچھے ایک ایسے نیٹ ورک کے شواہد موجود ہیں جسے پنجاب پولیس کی اسپیشل برانچ نے اپنی جنوری 2024 کی رپورٹ میں “The Blasphemy Business” کے عنوان سے بیان کیا تھا۔ فیکٹ فوکس کے مطابق اس رپورٹ میں نوجوانوں کو پھانسنے، ان سے رقم بٹورنے اور بعض FIA اہلکاروں کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کا ذکر کیا گیا تھا۔

فیکٹ فوکس کی بعد کی تحقیقات میں سوشل میڈیا پر جعلی شناختوں اور خواتین کے ذریعے نوجوانوں کو رابطے میں لانے، انہیں مبینہ طور پر ایسے مواد کی طرف لے جانے جس سے توہینِ مذہب کا مقدمہ بن سکے، اور پھر FIA کے سائبر کرائم ونگ تک معاملہ پہنچانے کے طریقۂ کار کی تفصیلات بھی سامنے لائی گئیں۔ ان تحقیقات میں حسن معاویہ کو لاہور اور وسطی پنجاب میں اس مبینہ نیٹ ورک کے اہم کردار کے طور پر بیان کیا گیا۔ ایک اور فیکٹ فوکس رپورٹ کے مطابق حسن معاویہ کم از کم 27 توہینِ مذہب کے مقدمات میں مدعی تھا اور بعض مقدمات میں CCTV فوٹیج بھی سامنے لائی گئی جس میں اسے گرفتاری کی کارروائیوں کے دوران FIA اہلکاروں کے ساتھ دیکھا گیا۔

یہ تمام دعوے عدالت کے حتمی فیصلوں کے مترادف نہیں۔ خود جن افراد کے نام ان تحقیقات میں آئے، ان میں سے بعض نے الزامات کی تردید کی ہے۔ حسن معاویہ نے بھی ایسے الزامات سے انکار کیا ہے۔ اسی طرح طاہر اشرفی نے اپنے بھائی کا دفاع کیا اور اس بات کی تردید کی کہ وہ یا ان کا بھائی کسی “blasphemy gang” کا حصہ ہیں۔ ٹیلی گراف کے مطابق انہوں نے ناقدین سے مطالبہ کیا کہ اگر انہوں نے کسی سے ایک روپیہ بھی بھتہ لیا ہے تو اسے ثابت کیا جائے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس کہانی کے تمام کرداروں کے انکار کے باوجود خود ریاستی اداروں کی دستاویزات، عدالتی کارروائیوں اور صحافتی تحقیقات میں جو تصویر سامنے آتی ہے، اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے 2025 میں توہینِ مذہب کے مقدمات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران 40 سے زیادہ سماعتیں کیں۔ جولائی 2025 میں عدالت نے حکومت کو ایک کمیشن بنانے کی ہدایت کی تاکہ مبینہ پھنسائے جانے، حراستی اموات اور تفتیشی خامیوں کی تحقیقات کی جا سکیں۔ بعد میں اس حکم کو چیلنج کیا گیا اور معطل بھی کیا گیا۔

یہ معمولی بات نہیں کہ ایک ہائی کورٹ کو اتنی طویل کارروائی کے بعد ایسے معاملات کی تحقیقات کے لیے کمیشن کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس سے کم از کم یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ محض سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی افواہوں تک محدود نہیں تھا؛ عدالت کے سامنے ایسے خاندان اور ایسے مقدمات موجود تھے جنہوں نے ریاستی تفتیش کے طریقۂ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔

فیکٹ فوکس کی مزید تحقیقات میں کم از کم چار نوجوانوں کی موت کا ذکر کیا گیا ہے جنہیں اس مبینہ نیٹ ورک اور FIA کے سائبر کرائم ونگ سے منسلک کارروائیوں کے بعد تشدد یا حراست کے حالات میں موت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان دعوؤں کی بھی مکمل عدالتی تصدیق کو الگ سوال سمجھنا چاہیے، لیکن یہ اتنا سنگین ضرور ہے کہ ریاستی اداروں کو شفاف اور آزادانہ تحقیقات کے ذریعے ہر دعوے کی حقیقت سامنے لانی چاہیے۔

اصل المیہ شاید یہ ہے کہ توہینِ مذہب کا الزام لگتے ہی قانون کا وہ بنیادی اصول جس کے مطابق ہر شخص بے گناہ تصور کیا جاتا ہے جب تک جرم ثابت نہ ہو، عملاً کمزور پڑ جاتا ہے۔ پاکستان میں توہینِ مذہب کے الزامات کی شدت اس قدر ہے کہ محض الزام بھی کسی شخص کو سماجی بائیکاٹ، تشدد، ہجوم کے حملے، نوکری کے خاتمے، نقل مکانی یا موت کے خطرے تک پہنچا سکتا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے بھی نوٹ کیا ہے کہ پاکستان میں توہینِ مذہب کے الزام سے متعلق سماجی تشدد کے متعدد واقعات پیش آتے رہے ہیں اور پولیس پر الزام لگتا رہا ہے کہ وہ ملزمان کو ہجوم سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔

یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص پر توہینِ مذہب کا الزام لگتا ہے تو مقدمہ صرف عدالت میں نہیں چلتا؛ اس کا مقدمہ سڑک پر بھی چلتا ہے، سوشل میڈیا پر بھی، مسجد میں بھی، خاندان کے درمیان بھی، اور کبھی کبھی پولیس اسٹیشن پہنچنے سے پہلے ہی اس کی سزا طے ہو جاتی ہے۔

ایسے ماحول میں اگر واقعی کوئی منظم گروہ لوگوں کو پہلے پھنسائے، پھر الزام لگائے، پھر پولیس یا کسی بااثر ادارے تک رسائی استعمال کرے اور آخر میں خوف یا مالی دباؤ پیدا کرے تو یہ صرف ایک فوجداری جرم نہیں ہوگا؛ یہ قانون کی روح کے ساتھ ایک بنیادی خیانت ہوگی۔

اور اگر ریاستی اہلکار، وکیل، مذہبی کارکن یا سیاسی بااثر افراد اس عمل میں کسی بھی سطح پر شریک پائے جائیں تو معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے، کیونکہ پھر قانون مظلوم کی حفاظت کا ذریعہ نہیں رہتا بلکہ خود خوف پیدا کرنے کا آلہ بن جاتا ہے۔

پاکستان نے مذہب کے نام پر بنائے گئے قوانین کے ذریعے گزشتہ کئی دہائیوں میں بہت سے انسانوں کو خوف کے ایک ایسے دائرے میں دھکیل دیا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں۔ احمدی اس دائرے میں اپنی مذہبی شناخت کے باعث پہلے ہی موجود ہیں۔ عیسائیوں، ہندوؤں اور دیگر مذہبی برادریوں کے افراد بھی بارہا ایسے مقدمات اور الزامات کا سامنا کر چکے ہیں۔ اور اب اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں کہ مسلمان نوجوان بھی منظم طریقے سے سوشل میڈیا کے ذریعے پھنسائے جا رہے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قانون جسے کبھی مذہب کی حفاظت کے نام پر مخصوص کیا گیا تھا، اب خود معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے خوف کا ذریعہ بن رہا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کی 2023 کی رپورٹ میں بھی 329 افراد پر توہینِ مذہب کے الزامات کا ذکر ہے، جبکہ سول سوسائٹی کے اعداد کے مطابق ان میں مسلمان، احمدی اور عیسائی سب شامل تھے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں “توہینِ مذہب کے کاروبار” کی اصطلاح محض صحافتی عنوان نہیں رہتی۔ اگر کسی قانون کے تحت الزام لگانے والا شخص طاقت، اثر و رسوخ، پولیس تک رسائی یا مالی فائدے حاصل کر سکتا ہے، اور جس پر الزام لگے وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے سے پہلے ہی سماجی اور جسمانی طور پر تباہ ہو سکتا ہے، تو پھر قانون کے غلط استعمال کے امکانات خود قانون سے زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں۔

احمد نورانی اور فیکٹ فوکس کی تحقیقات نے اس پہلو کو گزشتہ دو برس میں بار بار دستاویزی شکل میں سامنے رکھا ہے۔ 2024 کی تحقیق سے لے کر 2025 کی مزید تحقیقات تک فیکٹ فوکس نے ایک ایسے مبینہ نیٹ ورک، اس کے طریقۂ کار، FIA کے بعض اہلکاروں سے تعلقات، اور متاثرہ خاندانوں کے بیانات و دستاویزات کو سامنے رکھا ہے۔ یہ تحقیقات اپنی جگہ صحافتی مواد ہیں، عدالت کے فیصلے نہیں؛ مگر ایک آزاد ریاست میں صحافت کا کام ہی یہ ہے کہ وہ ایسے سوالات اٹھائے جنہیں طاقتور ادارے خود اٹھانے سے گریز کرتے ہوں۔

اور شاید سب سے بنیادی سوال یہی ہے: اگر کسی ملک میں توہینِ مذہب کا الزام خود ایک کاروباری ماڈل بننے لگے تو پھر مذہب کی حرمت کس چیز سے محفوظ رہے گی؟

اس کا جواب مزید سخت قوانین نہیں ہو سکتا۔ جواب یہ ہونا چاہیے کہ الزام لگانے والے کو بھی قانون کا پابند کیا جائے، تفتیش کو شفاف بنایا جائے، پولیس اور FIA کے اہلکاروں کو سیاسی اور مذہبی اثر و رسوخ سے آزاد رکھا جائے، جھوٹے مقدمات اور اغوا و تشدد کے الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی انسان کو صرف الزام کی بنیاد پر مجرم نہ سمجھا جائے۔

کیونکہ جس معاشرے میں ایک جھوٹا الزام کسی انسان کو جیل، تشدد یا موت تک پہنچا سکتا ہو، وہاں اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ ہم مذہب کی توہین سے کیسے بچتے ہیں؛ اصل امتحان یہ ہے کہ ہم مذہب کے نام پر انسانوں پر ہونے والے ظلم سے کیسے بچتے ہیں۔

طاہر اشرفی کو دیا جانے والا ایک بین الاقوامی ایوارڈ چند دن بعد واپس لے لیا گیا۔ یہ ایک واقعہ ہے، ایک خبر ہے، شاید چند ہفتوں بعد یہ بھی پرانی خبر بن جائے۔ لیکن پاکستان کے لیے اصل سوال اس ایوارڈ سے کہیں بڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسا قانون جس کے نام پر دہائیوں سے انسانوں کی زندگیاں برباد ہوتی رہی ہیں، کیا ہم اسے واقعی انصاف کا قانون بنانا چاہتے ہیں یا اسے الزام، انتقام، طاقت اور مفاد کا ذریعہ بننے دیتے رہیں گے؟

کیونکہ جب قانون مذہب کے نام پر انسان کو تحفظ دینے کے بجائے اسے خوف میں مبتلا کرنے لگے، جب الزام تحقیق سے پہلے سزا بن جائے، اور جب مذہبی جذبات کسی کی آزادی، عزت یا جان چھیننے کا ذریعہ بن جائیں، تو پھر مسئلہ صرف قانون کے غلط استعمال کا نہیں رہتا۔

پھر سوال یہ ہوتا ہے کہ قانون کس کے لیے ہے؟

اور انصاف کس کے لیے؟

مہمان لکھاری

لکھاری سے متعلق