آئینہ ابصار

علمی، ادبی، مذہبی، سیاسی اور سماجی موضوعات

موجودہ جنگ ایک حتمی پالیسی ہونی چاہئے! عدنان رحمت

سوشل میڈیا پر شئیر کریں

جنگ کسی گروہ نہیں بلکہ طالبانی مائنڈ سیٹ کے خلاف کریں!

جنگیں جائز یا ناجائز ہو سکتی ہیں مگر ہوتی مفاد کی ہیں، خدا کی نہیں۔ پاکستان اور افغانستان کی جاری جنگ میں دونوں طرف اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ مسلمان مسلمان کو مار رہے ہیں تو ظاہر ہے یہ خدا کی حاکمیت ثابت کرنے کی نہیں بلکہ اپنے سیاسی مفاد کے دفاع کی ہے (جس میں مرتے عوام ہیں)ـ

طالبان چاہے افغان ہوں یا پاکستانی، کسی حمایت کے مستحق نہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے آج کے عسکری سربراہان اپنے ماضی کے سربراہان کے پالتووں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ترقی دشمن طالبان کے خلاف ایکشن کو قبول کیا جا سکتا ہے مگر ان تہزیب دشمنوں کو ماضی میں پالنے اور طاقتور بنانے کی سنگین غلطی کرنے پر معافی کے بغیر ہم کیسے یقین کر لیں کہ طالبان سے ہماری مقتدرہ قوتوں کا یہ حتمی بریک اپ ہے؟

طالبان کوئی گروہ نہیں بلکہ ایک مائنڈ سیٹ ہے۔ جب تک اسی طرح کا ایکشن پاکستانی ریاست اپنے ملک کے اندر کے طالبانی مائنڈ سیٹ (جسے پچھلے دنوں کرکٹ کھیلنے والی چھوٹی بچی آئنہ وزیر کو سامنا کرنا پڑا) کو ختم نہیں کرے گی اور مزہب کو اپنی ناجائز حاکمیت کے لئے اور نیشنلزم سے جوڑنے کی پالیسی ختم نہیں کرے گی، یہ ایکشن طالبانی مائنڈ سیٹ کے خلاف نہیں بلکہ دراصل اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ہو گا۔

افغانستان سے انڈیا اور اسرائیل کی حمایت سے آنے والی پاکستان کے خلاف دہشت گردی سے بے شک ڈٹ کر مقابلہ کریں مگر یہ جنگ دہشت اور وحشت کی جڑ (طالبانی مائنڈ سیٹ اور عوام اور ترقی دشمن پالیسیوں) کے خلاف ہونی چاہیے، شارٹ ٹرم انسٹیٹیوشنل ٹیکٹیکل مفاد کے لئے نہیں۔

اینٹی طالبانزم ایک ناقابل واپسی پالیسی اور عمل ہونا چاہیے۔ ورنہ ماضی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں اس موجودہ ملٹری ایکشن کو اپنے وقتی مفاد کے طور ہی دیکھنا پڑے گا۔ عوام کے مستقل اعتماد اور حمایت کے لئے توپ کے گولے اور طیاروں کی بمباری کافی نہیں۔ ریاست سے مذہب کو علاحدہ کر کے اسے حقوق اور
ترقی سے جوڑیں۔

(عدنان رحمت)

مہمان لکھاری

لکھاری سے متعلق