اصل میں تو یہ کوئی سانحہ نہیں، واقعہ ہے۔ جو حب الوطنی کا محل تعمیر کیا جا رہا ہے اس کو اسلام پسندی سے لیپا پوتی کر کے اس کے مینارے شریفوں اور زرداریوں کے طور پر ایستادہ کئے جا رہے ہیں اس کی اینٹیں ناکارہ ہیں۔ ریاستی اور حکومتی بندوبست کی بنیادی اینٹیں کچی، پھسپھسی ہیں ۔ عوام الناس کو اپنے ہونے کا یقین نہیں ہے۔ ان اینٹوں کو جس گارے نے باہم جوڑنا تھا یعنی آئین اور قانون ، وہ بدبودار گوبر کا پتلا سا آمیزہ ہے جو اب مستریوں اور راج مزدوروں کے کپڑے خراب کر رہا ہے۔ میڈیاء سمجھوتے در سمجھوتے کے بعد اب تعفن زدہ ہو چکا اور اس پر عدالتی نظام ایک رکھیل بن کے رہ گیا ہے۔
عوام اور ووٹر کمینگی اور بے غیرتی سے نیچے جاکر اس تحت الثریٰ کو اپنے لئے ایک ارفع مقام سمجھے بیٹھے ہیں۔ اس طرح کا بے حیثیت انسانی ہجوم کچھ موقع پرستوں کو ممبر بناتا ہے اور وہ ممبر ووٹ کے بل بوتے پر دلال بن کے کابینہ تشکیل دیتے ہیں۔ اس کابینہ کے سر پر مفاہمت پرست بے ضمیروں کو ان کی اولادوں سمیت بٹھایا جاتا ہے اور اس ہائبرڈ بے غیرتی کے سارے مفادات بیرونِ پاکستان ہیں۔ وہ قطعی طور پر سیاسی شعور اور عمرانی دوربینی سے عاری اور طے شدہ سودے باز ہیں۔ وہ پاکستان میں صرف صدر، وزیراعظم یا وزیر اعلی کے طور پر رہ سکتے ہیں۔ اگر وہ ان عہدوں پر نہ ہوں تو پھر جیل میں ہوں۔ ان کو جیل سے باہر یا جیل کے اندر رکھنے کا فیصلہ وہ عدالتیں کرتی ہیں جو آزاد نہیں مگر عظمی اور اعلی کے گھنگرو پہن کر ناچتی ہیں اور ان سب کا مجرا دیکھنے والے اصل حکمران ہیں۔
وہ حب الوطنی اور اسلامائزیشن کے ہتھیاروں سے مسلح ہیں اور اپنے عوام پر اپنی جغرافیائی حدود کے اندر ایٹم بم اور میزائل نہیں چلاتے بلکہ ان ہتھیاروں سے اصولی سوالات اٹھانے والوں کی سرکوبی کرتے ہیں۔
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کا جیل جانا سانحہ نہیں، سانحہ یہ ہے کہ ان کی خاطر سنجیدہ تحریک نہیں چل سکے گی۔
سانحہ یہ ہے کہ انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھانے کے لئے مقامی آوازیں نہیں مل سکیں گی۔
سانحہ یہ ہے کہ عدلیہ میں افضل مجوکہ ایک نہیں ہو گا بلکہ لائن لگی ہو گی اس طرح کے ججز کی مگر سردار اعجاز اسحاق جیسے جلد جلد قصہِ پارینہ بنتے جائیں گے۔
اندھیر یہ ہے وکلاء تنظیمیں مفادات کے نام پر منقسم اور طاہر اشرفیوں اور راؤ رحیموں کی تنظیمِ نو ہو گی۔
بلاسفیمی بزنس گینگ کے متاثرین اس سرعت سے جیلوں سے باہر نہیں آئینگے جتنی سرعت اور چابکدستی سے ہادی چٹھہ اور ایمان مزاری جیل کے اندر جائیں گے-
انفرادی معزز اجتماعی تذلیل پر خاموشی اختیار کریں گے اور غزہ امن بورڈ میں ٹرمپ کے اشارہ ابرو پر بیٹھنے والے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل سے سوال نہیں پوچھا جائیگا کہ کونسی اخلاقی گارنٹی اور کیا لائن ڈرا کر کے آپ اسرائیل کے ساتھ ٹیبل شیئر کرنے بیٹھ گئے تھے۔
اسرائیل کے ایجنٹ تو پچھلے پچاس سال سے آپ بتا رہے تھے کہ قادیانی ہیں، یہودی لابی کے مفادات کا تحفظ تو آپ کے اجتماعی قومی بیانئیے کے مطابق مرزائی کر رہے تھے تو عملی گواہی اقوامِ عالم کے سامنے آپ دے آئے ہیں؟ کیوں صاحب، کیا مجبوری پیش آ گئی تھی۔
اپنے گھر اور گلی کے مفادات پر کمینے سمجھوتے والے ووٹر سے جو حکومت اور ریاست ترتیب پائی اس نے بینالاقوامی سطح پر کینیڈین وزیر اعظم والی راہ اپنانے کی بجائے ٹرمپ اور نیتن یاہو کی بیعت کرلی ۔ یہ ہے سانحہ، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
باہر آپ نے بدترین راستے کا انتخاب کیا اور گھر آ کر آپ نے ان دو میاں بیوی کو ننگی چٹی بے انصافی کا ساتھ سترہ سال کے لئے جیل بھیج دیا۔
آپ میں سے کوئی سترہ سال تک نہیں رہے گا تو یہ دونوں کب سترہ سال جیل میں رہیں گے۔
لیکن آپ نے اپنی گورننس کی قبر کھود لی ہے۔
اس طرح مفادات کا تحفظ بھی نہیں ہو پائے گا۔
اس گارے سے حب الوطنی کی اینٹیں نہیں جُڑ پائیں گی۔
اسلامائزیشن کا ایسا پلستر جو ٹرمپ کے کہنے پر آپ کو اٹھائے بٹھائے، بہت جلد اکھڑ جائے گا۔
راقم کی ایک پرانی غزل کے چند شعر سنئیے،
سلطنت ہے کہ روسیاہ بی بی
اور حکومت ہے بے نکاح بی بی
کالے کوے کی بس یہی خواہش
کوچ کر جائے فاختہ بی بی
اہل دانش کہ ہو گئے گونگے
بند ہے ان کا ناطقہ بی بی
طاہر احمد بھٹی، جرمنی
متعلقہ
غزل ، از ، مدبر آسان قائل، جرمنی
What are Ahmadis in Pakistan, legally? By; Mona Farooq
غزل، از ، طاہر احمد بھٹی