آئینہ ابصار

علمی، ادبی، مذہبی، سیاسی اور سماجی موضوعات

جنگ کی بساط پر جائے نماز والے مفتی رحیم۔ از، فرنود عالم

سوشل میڈیا پر شئیر کریں

پاک افغان تنازعے کے دوران سب سے شرمناک کردار ہمیشہ مفتی عبدالرحیم جیسے اعزازی کرنیلوں کا ہوتا ہے۔

ویسے تو پاک افغان جنگ کا نہ پاکستانیوں سے کوئی لینا دینا ہے نہ افغانوں سے۔ لینے دینے میں ہمیشہ عالمی طاقتیں ہوتی ہیں۔ اب بھی عالمی طاقتیں ہی ہیں۔

یہ ہم اور آپ بس اپنے نظریوں اور گروہی عصبیتوں کی بنیاد پر کرائے کی بندوق بن سکتے ہیں، پرانا حساب چکا سکتے ہیں، یا پھر وقت گزاری کا تھوڑا بہت سامان کر سکتے ہیں۔

ہمیں صرف اس بات کی اجازت ہوتی ہے کہ آج یہاں کھڑے ہو تو کل وہاں کھڑے ہوجانا۔ فوکس بس ایک چیز پہ رہنا چاہیے۔ ماضی پہ فخر کرو اور مستقبل کو تباہ کرو۔ و بس۔!

یہ تو ایک بات ہے۔ مگر یہ مفتی عبدالرحیم؟

مفتی عبدالرحیم جیسے کردار ان جنگوں میں غیر سیاسی بیانیے مرتب کرتے ہیں۔ یہ شطرنج کی بساط پر لڑی جانے والی جنگوں میں بساط کھینچ لیتے ہیں، وہاں جائے نماز بچھا دیتے ہیں۔

معصوم لوگ ان بیانیوں کے اسیر ہوتے ہیں اور خاندان اجڑ جاتے ہیں۔ یہ ان خاندانوں کو بے آسرا اور بے سہارا چھوڑ کر آگے نکل جاتے ہیں۔ دوسرا بیانیہ مرتب کرتے ہیں، اور اس بیانیے میں یہ انہی کا مذاق اڑانا شروع کر دیتے ہیں جو انہی کے بیانیے کا رزق بنے ہوتے ہیں۔

یہ ٹ ی ٹ ی پی یہ کالعدم تنظیمیں یہ یہ گڈ یہ بیڈ یہ سب کیا ہے؟

یہ ایک ذہنیت ہے جس نے مفتی عبدالرحیم کے ضرب مومن، بچوں کا اسلام، روزنامہ اسلام اور اس جیسے دوسرے سپانسرڈ جریدوں سے جنم لیا۔ ان کی بنائی ہوئی، توڑی ہوئی اور توڑ کر پپھر سے بنائی ہوئی تنظیموں سے جنم لیا۔

جو کچھ انہوں نے دیہی علاقوں سے آنے والے بے کس و نادار بچوں کو سکھایا، وہی کچھ انہوں نے پاکستان پر اہلائی کر دیا۔ مگر انہوں نے کانوں پر سفید رنگ کا رومال لپیٹا اور الٹی سائیڈ سے قرآن کھول لیا۔ نئی تشریح بئی تعبیر۔

ان سے اس سوال کا جواب کون لے گا کہ یہ جو آگ لگی ہوئی ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟

یہ بھی تو بتائیے کہ اب جو پالے ہوئے پورس کے ہاتھیوں نے پلٹ کر حملہ کیا ہے، اس سے سیاسی طور پر آپ نے کیا سیکھا ہے؟

آج کے حالات کی جو لوگ پیشگوئی کررہے تھے، انہیں آپکے جریدوں غدار، ملک دشمن اسلام دشمن جانے کیا کیا کچھ کہا۔ ان کی شہادتوں

پر اندر خانے تم لوگوں نے جشن منایا۔ دعوتیں کیں۔

اب جب وقت نے انہی کو سچا بناکر سامنے کھڑا کر دیا ہے، تو اپنے کردار پر شرمندگی کا ذرا سا بھی کوئی احساس ہے کہ نہیں؟

آپ پھر اس جنگ میں کودے ہو تو استدلال کے لیے وہی قرآن و حدیث والے پیمانے لیکر آگئے ہو۔ آپ ہی کی صفوں میں موجود جو لوگ اس حوالے سے سیاسی رائے دے رہے ہیں ان کا تعاقب کر رہے ہو۔

پھر وہی ساحل پہ نام لکھنے کی کوشش ہو رہی ہے پھر وہی ہوا میں تصویر بنانے کی ضد ہے۔ مغالطوں سے پھر دماغ خراب ہوں گے، اور یہ صاحب پھر ٹرانسپیرنٹ لاٹھی پکڑکے آگے بڑھ جائیں گے۔

فرنود عالم

مہمان لکھاری

لکھاری سے متعلق