میری حالیہ گھر کی شفٹنگ نے اس بار مجھے ہمارے معاشرے کا ایک ایسا ایکس رے دکھایا جسے شاید ہم سب دیکھتے ہیں، مگر ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔
یہ صرف اینٹوں اور دیواروں کی تبدیلی نہیں تھی، یہ رویوں، نیتوں اور اجتماعی کردار کی ایک جھلک تھی۔ ایک ایسا آئینہ جس میں ہم سب کہیں نہ کہیں خود کو دیکھ سکتے ہیں، مگر نظریں چُرا لیتے ہیں۔
اس دوران پلمبر سے واسطہ پڑا، پینٹر، کارپینٹر سے، الیکٹریشن سے، ریئل اسٹیٹ ایجنٹ سے…
اور ہر مرحلے پر ایک ہی چیز بار بار سامنے آئی:
ہم بطور قوم جس چیز کی شدید کمی کا شکار ہیں، وہ ہے ایمانداری اور دیانت داری۔
یہ بات میں کسی غصے یا وقتی ردعمل میں نہیں کہہ رہا، بلکہ مسلسل تجربات، مشاہدات اور ایک گہری سماجی حقیقت کو سمجھنے کے بعد کہہ رہا ہوں۔
ہم نے ہنر تو سیکھ لیا ہے، مگر ہنر کے ساتھ اخلاق نہیں سیکھے۔ ہم کام کرنا جانتے ہیں، مگر صحیح نیت کے ساتھ کرنا نہیں سیکھ پائے۔
ریئل اسٹیٹ ایجنٹ کی مثال لے لیں۔
گھر دکھاتے وقت سب کچھ بہترین بتایا گیا۔ پانی کا مسئلہ نہیں، لکڑی ٹھیک، پینٹ ٹھیک، سب کچھ بالکل ٹھیک ہے۔
باتوں میں اعتماد بھی تھا، لہجے میں یقین بھی… اور شاید اسی یقین نے ہمیں مطمئن کر دیا۔
لیکن جیسے ہی شفٹنگ شروع ہوئی، حقیقت ایک ایک کر کے سامنے آتی گئی۔
پانی کا الگ مسئلہ نکل آیا۔
دروازوں کی چوکھٹوں میں دیمک تھی، جس کے بارے میں پہلے کہا گیا تھا کہ ٹھیک کرا دیا جائے گا، مگر بات بدل گئی۔
پینٹ میں خامیاں تھیں، نلکے خراب تھے، اور کئی چھوٹی بڑی چیزیں ایسی تھیں جو جان بوجھ کر چھپائی گئیں۔
یہ وہ سچ تھا جو پہلے دن بھی موجود تھا، مگر ہمیں دکھایا نہیں گیا۔
کیوں؟
کیونکہ مقصد صرف ایک تھا: کمیشن لینا، چاہے سچ آدھا ہی کیوں نہ بتایا جائے۔
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پہلا یا دوسرا تجربہ نہیں تھا…
یہ تیسری بار تھا جب ایک ایجنٹ نے سچ کے بجائے فائدے کو ترجیح دی۔
مذہب، شکل، باتیں… کچھ بھی اس رویے کو نہیں بدل سکا۔ اس بار ایجنٹ ہندو تھا، پہلے مسلمان تھے… مگر رویہ ایک جیسا تھا۔
یہاں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے:
مسئلہ کسی ایک مذہب، طبقے یا شناخت کا نہیں… یہ ایک اجتماعی رویہ ہے جو ہم سب میں کہیں نہ کہیں موجود ہے۔
پھر پلمبر کا معاملہ آیا۔
کام بالکل واضح تھا: WC کی جگہ کموڈ لگانا اور شاور سیٹ فٹ کرنا۔
میں نے پورا کام سمجھایا، پیسے دیے، اور کام شروع ہو گیا۔
لیکن جب کام مکمل ہوا تو پتا چلا کہ کموڈ ہی غلط طریقے سے لگایا گیا ہے۔
پرانا سسٹم ہٹانے کے بجائے اسی کے اوپر نیا فٹ کر دیا گیا۔
نٹ اور سکرو تک ٹھیک نہیں لگائے گئے۔
یعنی کام بھی کیا… اور بگاڑ بھی دیا۔
یہ صرف مہارت کی کمی نہیں تھی، بلکہ ذمہ داری اور ایمانداری کی کمی تھی۔
اور سب سے اہم بات یہ کہ پیسے اسی کام کے دیے گئے تھے جو بتایا گیا تھا۔
بعد میں اسے ٹھیک کروانے کے لیے الگ بحث، الگ وقت، اور الگ ذہنی اذیت برداشت کرنی پڑی۔
یہ وہ hidden cost ہے جس کا ذکر کوئی نہیں کرتا—وقت، ذہنی سکون، اور اعتماد کا نقصان۔
کارپینٹر کا تجربہ بھی مختلف نہیں تھا۔
ایک کام جس کی اصل لاگت تقریباً چھ سے آٹھ ہزار تھی، پندرہ ہزار بتائی گئی۔
جب مزید لوگوں سے بات کی، تو اندازہ ہوا کہ قیمتیں جان بوجھ کر Inflate کی جا رہی ہیں۔
یہ صرف ایک فرد کا عمل نہیں، بلکہ ایک غیر اعلانیہ کلچر ہے جہاں “جتنا بن سکے نکال لو” ایک نارمل بات بن چکی ہے۔
بڑی مشکل سے ایک نسبتاً بہتر اور کم “جوڑ” کرنے والا بندہ ملا، جس نے کام ٹھیک کر دیا۔
لیکن یہاں بھی مکمل ایمانداری نہیں، بلکہ نسبتاً کم بے ایمانی ملی۔
یعنی ہم نے معیار ہی یہ بنا لیا ہے کہ “کم دھوکہ دینے والا” اچھا سمجھا جاتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب لوگ کون ہیں؟
یہ کوئی بڑے مافیا یا طاقتور لوگ نہیں ہیں۔
یہ محنت کش لوگ ہیں۔
ہنر مند لوگ ہیں۔
روز کمانے والے لوگ ہیں۔
وہی لوگ جنہیں ہم معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کہتے ہیں۔
لیکن جب یہی ریڑھ کی ہڈی کمزور ہو جائے، تو پورا ڈھانچہ ہلنے لگتا ہے۔
لیکن پھر بھی سوال یہی ہے:
جب رزق آ ہی رہا ہے، تو اس میں جھوٹ اور دھوکے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟
شاید اس کی جڑ صرف لالچ نہیں، بلکہ ایک خوف بھی ہے—کل کا خوف، کمی کا خوف، “اگر آج نہ کمایا تو کل کیا ہوگا” کا خوف۔
یہ scarcity mindset ہمیں چھوٹے چھوٹے جھوٹ کی طرف لے جاتا ہے، جو آہستہ آہستہ ہماری عادت بن جاتے ہیں۔
ہم اکثر سیاستدانوں کو برا بھلا کہتے ہیں۔
ان پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہیں۔
لیکن اگر سچ کا سامنا کریں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے:
یہ مسئلہ صرف اوپر نہیں ہے… یہ ہر سطح پر موجود ہے۔
دکاندار کم تولتا ہے
مکینک غیر ضروری خرابی نکالتا ہے
ایجنٹ آدھی سچائی بتاتا ہے
مزدور کام ادھورا چھوڑتا ہے
اور پھر ہم کہتے ہیں: “ملک ٹھیک نہیں ہو رہا”
اصل میں ملک وہی ہے جو ہم روزانہ اپنے عمل سے بنا رہے ہوتے ہیں۔
سچ یہ ہے کہ اس معاشرے میں ہر شخص اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
چاہے وہ دیندار ہو یا لبرل
چاہے مسلمان ہو یا ہندو
چاہے پڑھے لکھے طبقے سے ہو یا مزدور طبقے سے
مسئلہ کسی ایک کا نہیں… مائنڈسیٹ کا ہے۔
ہم نے اجتماعی طور پر چھوٹے جھوٹ کو “چالاکی” اور ایمانداری کو “بیوقوفی” سمجھنا شروع کر دیا ہے۔
ذاتی طور پر، یہ چیز مجھے بہت فرسٹریٹ کرتی ہے کیونکہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو کوشش کرتے ہیں کہ:
قانون کی پابندی کریں، ٹریفک رولز فالو کریں، اور کسی بھی لین دین میں سچ بولیں۔
حتیٰ کہ کئی بار ایسا ہوا کہ میں نے صرف اس لیے وہ بزنس جانے دیا کیونکہ میں جھوٹ نہیں بول سکا۔
لیکن جب خود بازار میں جاتا ہوں تو وہی ایمانداری مجھے واپس نہیں ملتی۔
یہ عدم توازن انسان کو اندر سے تھکا دیتا ہے، اور کبھی کبھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ “کیا میں ہی غلط ہوں؟”
یہ صرف انفرادی مسئلہ نہیں ہے۔
یہ ایک قومی مسئلہ ہے۔
اور اس کا حل صرف قوانین یا سسٹمز میں نہیں، بلکہ تربیت اور شعور میں ہے۔
ہمیں بطور قوم ایمانداری کی ٹریننگ کی ضرورت ہے۔
ہمیں سکل سکھائی جاتی ہے، مگر کیریکٹر نہیں۔
ہمیں کمانا سکھایا جاتا ہے، مگر صحیح طریقے سے کمانا نہیں۔
گھروں میں، اسکولوں میں، اور معاشرے میں ہمیں یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ ایمانداری صرف اخلاقی بات نہیں، بلکہ ایک طویل مدتی فائدہ ہے—اعتماد پیدا کرتی ہے، رشتے مضبوط کرتی ہے، اور معاشرے کو مستحکم بناتی ہے۔
آخر میں بات بہت سادہ ہے کہ ہم ایمانداری کو ایک آئیڈیل سمجھتے ہیں مگر اسے اپنی زندگی کا حصہ نہیں بناتے۔
ہم چاہتے ہیں کہ دوسرا ہمارے ساتھ سچا ہو مگر خود سچ بولنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
اگر واقعی تبدیلی چاہیے تو وہ کسی ایک لیڈر، ایک پالیسی یا ایک سسٹم سے نہیں آئے گی۔
وہ تب آئے گی جب
پلمبر ایمانداری سے کام کرے،
ایجنٹ پوری سچائی بتائے،
کارپینٹر صحیح قیمت لے،
اور ہم سب اپنے اپنے دائرے میں ایمانداری کو اپنائیں۔
کیونکہ آخر میں قومیں نعروں سے نہیں بنتیں، کردار سے بنتی ہیں۔
توصیف اکرم نیازی
متعلقہ
موجودہ جنگ ایک حتمی پالیسی ہونی چاہئے! عدنان رحمت
جنگ کی بساط پر جائے نماز والے مفتی رحیم۔ از، فرنود عالم
کاسمیٹک ترقی، از ملیحہ سید، پاکستان