آئینہ ابصار

علمی، ادبی، مذہبی، سیاسی اور سماجی موضوعات

صابر ظفر کے تازہ مجموعہ کلام کا تعارف، از بشیر احمد حبیب

سوشل میڈیا پر شئیر کریں

دشتِ امکاں

بشیر احمد حبیب

جو گرا ہے شاخ سے گل کہیں تو وہیں کھلا کوئی اور ہے

کہوٹہ راولپنڈی دو حوالوں سے دنیا کو یاد رہیگا ، اسلامی دنیا کو پہلا ایٹم بم وہاں سے ملا اور اردو ، پنجابی کا اہم اور نامور شاعر صابر ظفر وہاں پیدا ہوا ۔ ویسے تو ان کی بیسیوں غزلیں گائی گئیں اور ٹی وی ڈراموں کے لیے لکھے گئے سینکڑوں شہرہ آفاق گیت عوامی سطح پر بے حد سراہے گئے ، مگر یہ ان کے عظیم ادبی کارنامے کی ایک جزوی حقیقت ہے۔

مثلاً غلام علی کی آواز میں

“دریچہ بے صدا کوئی نہیں ہے”

سہل ممتنع میں کہی گئی ایسی غزل ہے جس کے ہر شعر میں وہ اعلیٰ مضامین باندھے گئے ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں۔

یا پھر وہ غزل جو زبان ذد عام ہے ۔

نہ ترا خدا کوئی اور ہے نہ مرا خدا کوئی اور ہے
یہ جو قسمتیں ہیں جدا جدا یہ معاملہ کوئی اور ہے

ٹی وی کے لیے لکھے گئے ان کے شہرہ آفاق گیت ایک ایسا ادبی کارنامہ ہے جو کسی دوسرے شاعر کو نصیب نہیں ہوا ،

“میری ذات زرہ بے نشاں”

ان کا یہ گیت ٹیوب پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ لوگوں نے سنا ۔

اسی طرح وہ ایک اور مقبول گیت کے لیے یو ٹیوب پر تقریباً ساڑھے چھ کروڑ لوگوں سے داد پا چکے ہیں

“کوئی چاند رکھ میری شام پر،،

اور ان کا او ایس ٹی ” کفارہ ” کو ہو ٹیوب پر تقریباً ساڑھے چار کروڑ لوگ سراہ چکے ہیں ۔

یہ صرف چند مثالیں ہیں ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان کی تخلیقات کی پہنچ ایک ارب سے زیادہ لوگوں تک کا سنگ میل عبور کر چکی ہے ۔ اور یہ وہ مقام ہے جہاں عصر حاضر کے وہ تمام شعرا جن کا عوامی سطح پر اتنا بھی تعارف نہیں کہ چند ہزار لوگ ان کے نام سے واقف ہوں، اور جو محض انجمنانِ ستائش باہمی کے طفیل ایک دوسرے کو داد دیے کر یہ باور کراتے ہیں میر اور غالب کے بعد اردو شاعری کی آبرو انہی کے دم سے ہے ۔

اب ہمیں فراخدلی سے یہ قبول کرنا چاہیے اس عہد جدید میں کسی بھی شاعر کے لیے عوام کی جانب سے قبولیت کی سند ایک ایسا مصدقہ پیمانہ ہے جو ہر خاص کو عام سے ممتاز کرتا ہے ۔ اور اس پیمانے پر بلا شبہ صابر ظفر اوپر والے دو چار مقبول عام شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔

مگر اس مقام پر مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی عار نہیں عوام میں اس قدر مقبولیت کی سند صابر ظفر کا اصل حوالہ نہیں ۔ صابر ظفر وہ شاعر ہیں جن کا 57 شعری مجموعہ “رنگوں سے ہے ماورا مرا رنگ ” میرے سامنے کھلا ہوا ہے ۔ کسی شاعر پر اتنی آمد کا مطلب اس کے سوا کچھ اور نہیں اللہ نے اسے شاعری کے لیے چن لیا ہے۔

اگر ہم صابر ظفر کا شاعری کے اس تمام سفر کا جائزہ لیں تو ہم پر کھلتا ہے ان کی شاعری محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ ایک مسلسل داخلی مکالمہ ہے ، ایک ایسا مکالمہ جو کبھی ذات سے، کبھی کائنات سے اور کبھی اُس خلا سے ہوتا ہے جو دونوں کے درمیان حائل ہے۔ 57 سے زائد شعری مجموعوں کے خالق صابر ظفر نے اردو غزل کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسے ایک نئی فکری جہت بھی عطا کی۔
ان کا مجموعہ “رنگوں سے ہے ماورا مرا رنگ” اس تخلیقی سفر کا ایک نہایت اہم پڑاؤ ہے۔ یہ کتاب دراصل شاعر کے اُس باطنی سفر کی دستاویز ہے جہاں ظاہری رنگ ماند پڑ جاتے ہیں اور ایک ایسا رنگ سامنے آتا ہے جو محسوس تو ہوتا ہے مگر دکھائی نہیں دیتا۔
کتاب کے مختلف مقامات پر ایسے اشعار سامنے آتے ہیں جو اس داخلی کیفیت کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں:

“گلی کے موڑ پہ خوں رنگ خواہشوں کا کواڑ
اسی سبب سے ہوا بند جس سبب سے کھلا “

یہ شعر صابر ظفر کی شاعری کے بنیادی جوہر کو ظاہر کرتا ہے یعنی خود کی دریافت محض ایک فرد کی دریافت نہیں بلکہ ایک مکمل کائنات اور اس کا ادراک ہے ۔

اسی طرح ایک اور شعر میں وہ کہتے ہیں :

لگا کنارے تو میں اجنبی تھا اپنے لیے
گنوا چکا کسی قلزم میں اپنا سارا رنگ

یہی وہ “رنگ” ہے جو صابر ظفر کی شاعری کو عام اظہار سے بلند کر دیتا ہے۔

کتاب میں شناخت کا موضوع بھی بار بار ابھرتا ہے:

بے نور تھے ستارے مگر تھے نہ بے وجود
آخر کو ان کے ہونے سے میں آشنا ہواء

ایک اور مقام ان کا یہ کہنا

“اڑتے رنگوں سے کوئی ہاتھ ملانے کیسے
ساتھ جانا ہو اگر ، ساتھ وہ جائے کیسے”

اس فکری رجحان کی عکاسی کرتا ہے جہاں وہ روایتی فلسفہ جبر و اختیار سے نبرد آزما نظر آتے ہیں۔

صابر ظفر کی اس کتاب کا سب سے نمایاں پہلو اس کی فکری یکسوئی ہے۔ “رنگ” ایک مرکزی استعارہ بن کر پوری کتاب میں پھیلا ہوا ہے، مگر ہر جگہ اس کا مفہوم بدل جاتا ہے ، کہیں یہ شناخت ہے، کہیں احساس، کہیں کرب، اور کہیں عرفان۔

زبان کے اعتبار سے ان کی شاعری سادہ مگر تہہ دار ہے۔ وہ مشکل الفاظ یا پیچیدہ تراکیب کے بغیر گہری بات کہہ دیتے ہیں۔ یہی خوبی انہیں معاصر شعرا میں ممتاز کرتی ہے۔

ان کی غزل میں روایت کی خوشبو بھی ہے اور جدید حسیت بھی۔ وہ میر و غالب کی طرح داخلی کرب کو بیان کرتے ہیں مگر ان کا زاویۂ نظر جدید انسان کے تجربات سے جڑا ہوا ہے۔

“رنگوں سے ہے ماورا مرا رنگ” صرف ایک شعری مجموعہ نہیں بلکہ ایک داخلی سفر ہے ، ایسا سفر جس میں قاری خود کو بھی دریافت کرتا ہے۔ صابر ظفر کا کمال یہی ہے کہ وہ قاری کو اپنے ساتھ اس سفر پر لے جاتے ہیں۔

ان کی شاعری میں رنگ وہ نہیں جو نظر آتا ہے، بلکہ وہ ہے جو محسوس ہوتا ہے ، اور شاید وہی “ماورا رنگ” ہے جس کی تلاش میں انسان ہمیشہ سے سرگرداں ہے۔

یہ ہے ربط اصل سے اصل کا نہیں ختم سلسلہ وصل کا
جو گرا ہے شاخ سے گل کہیں تو وہیں کھلا کوئی اور ہے

مہمان لکھاری

لکھاری سے متعلق