تازہ غزل
میں تری بہارِ یقین میں شجرِ خیال کا کیا کروں
سرِ شاخِ فکر جو کھل اٹھا ہے اب اس سوال کا کیا کروں
میں ہوں خاک سو مرا مسئلہ یا نمی کا ہے یا نمو کا ہے
مرے آسمان تو خود بتا، میں تری مثال کا کیا کروں
مرا ایک حال و مقال ہے، مری جیب میں یہی مال ہے
کہ ملال ہے تو ملال ہے، سو کہو ملال کا کیا کروں
پسِ التفات اے دل نشیں، کوئی جبرِ نفس نہ ہو کہیں
بہ ہزار شوق و سپردگی، میں اس احتمال کا کیا کروں
نہ تو ہجر ہے نہ وصال ہے، فقط ایک پرسشِ حال ہے
کوئی بات اس سے سوا نہیں تو میں بول چال کا کیا کروں
جسے ربط دردِ ازل سے ہو، وہی سرو قد ہے ابد ابد
ترا عہد ہے ترے فن کی حد، میں ترے کمال کا کیا کروں
مدبر آسان
متعلقہ
موجودہ جنگ ایک حتمی پالیسی ہونی چاہئے! عدنان رحمت
جنگ کی بساط پر جائے نماز والے مفتی رحیم۔ از، فرنود عالم
کاسمیٹک ترقی، از ملیحہ سید، پاکستان