پاکستان میں لانگ مارچ اور ہندوستان میں جینزی کا جنتر منتر تقریباً ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ ادھر مودی انڈر سکور امت شا اور ادھر شہباز جمع زرداری۔
وہاں بھی الیکشن چوری یہاں بھی جھرلو ، مگر ایک نمایاں فرق کے ساتھ!
ہندوستان میں لوگ سمیدھان یعنی آئین میں متعین حقوق کے تلف ہونے پر اٹھے اور سپریم کورٹ ان کے پیچھے کھڑی ہے جبکہ پاکستان میں آئین سے کھلواڑ کرتے کرتے سپریم کورٹ کو پہلے ہی بے اثر کیا جا چکا تھا تو اب عوام کے حقوق کس کھونٹے پر لٹکانے ہیں؟
ادھر کچھ راہول گاندھی کچھ بزرگ عمر کے وکلاء کچھ صحافی اور کچھ شوبز کے لوگ اظہارِ یکجہتی کرنے جنتر منتر جا پہنچے اور ادھر، کچھ سعد رفیق اور کچھ ندیم افضل چن آڈیٹوریم مائیکس پر گرجے برسے ، کہیں شاہد خاقان عباسی اور کوئی مظہر عباس کسی پوڈ کاسٹ میں برہم ہوئے مگر ان آوازوں کو اعتبار دینے کے لئے نہ تو اوپر کوئی سپریم باڈی تھی اور نہ نچلی سطح پر کوئی عام آدمی تھا جو انفرادی سطح پر اس ننگ ، جھوٹ اور کم نظری کے منہ پر تھوک دے اور ان کو لیڈر ماننے سے انکاری ہو، بلکہ الٹا،
“خالی مسجد کے باہر ہے ایک ہجوم نمازیوں کا” اور اندر سے مسجد خالی ہے۔
ایسے میں چھہ کروڑ کا صوبہ ہو یا پچیس کروڑ کا ملک، سب پر ایمرجنسی لگ سکتی ہے اور سب کو ہانک کر حب الوطنی اور غداری کے باڑوں میں بند کیا جا سکتا ہے۔
ایسے میں قوموں اور ملکوں کو اصلیت اور آئینہ دلھانے کا انتظام قدرت اور تاریخ نے چند اشاریوں کے ذریعے کر رکھا ہوتا ہے جو پلوں کے نیچے سے پانی گزرنے کے بعد سند کے طور پر مؤرخ کے قلم سے امر ہو جاتے ہیں۔
بھارت میں حالیہ احتجاج سے دو ہفتے قبل ایک ہندو کی درخواست پر فیصلہ دیا گیا جس نے اسلام میں کنورٹ ہونے کے بعد اپنا اسلامی نام کا پاسپورٹ بنوانا چاہا اور وزارت داخلہ نے انکار کیا۔ اس نے سپریم کورٹ کو کہا کہ میں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور سپریم کورٹ کے آرڈر سے اس کا مسلم نام کا پاسپورٹ جاری ہوا اور انڈین سپریم کورٹ نے عقیدہ رکھنے کے آئینی حق کو سپورٹ کیا اور ہندو سے مسلمان ہونے کو مرتد اور واجب القتل قرار نہیں دیا اور نہ ہی ایک ہندو کے اسلامی نام سے ہندو دھرم بھرشٹ ہوا۔
ادھر پاکستان میں سپریم کورٹ کے ایک وکیل سید طارق احمد کے خلاف ایف آئی آر ہوئی اور کیس چلا کہ یہ شخص قادیانی ہے جس کو آئین کافر قرار دیتا ہے اس لئے اس کے نام میں سید نہیں ہو سکتا کیونکہ سید صرف مسلمان ہو سکتا ہے اور یہ احمدی ہو کر مرتد۔۔۔ اور س آن اینڈ سو فورتھ۔
ہندو دھرم جس کی تنگ نظری ٹیکسٹ بکس میں پڑھائی گئی اس کی کٹھ ملائیت والی مودی سرکار کے ہوتے سوتے سپریم کورٹ آف انڈیا آئینی حقِ عقیدہ کا پالن کرتی ہے اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو تاجدار ختم نبوت اور رحمت العالمین کے نعرے لگانے والے مسلم اکثریت کے ملک کی سپریم کورٹ نے آئینی طور پر مسلٌم حقِ عقیدہ کا بھی انکار کیا اور ہندوتوا سے زیادہ تنگ نظری کا مظاہرہ کیا تو اس کے بعد سر سے پاؤں تک بے ضمیری ایک قومی کردار کے طور پر آپ کے ماتھے پر ثبت کر دی گئی۔
سو کروڑ کی آبادی میں سے ایک فیصد ہندوستانی سماجی اور سیاسی ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے سامنے کھڑا ہو کر مسلمان ووٹر اور اقلیتوں کے تحفظ کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے تو کسی امت شاہ اور آر ایس ایس یا مودی کو جرأت نہیں ہوتی کے وہ سمیدھان کو پامال کر سکیں یا سپریم کورٹ کو لونڈی بنا سکیں۔
آپ ذرا سپریم کورٹ کو باختیار بنا کے دلھا دیں،
آپ کا دانشور زرداری اور شریف خاندان کی موروثی سیاست کو جمہوریت کہتا ہے اور کاسہ لیسی کرتا ہے تو پھر اسٹیبلشمنٹ ان کے گٹھ جوڑ کو جمہوری بندوبست کہے اور فارم سینتالیس بھرتی پھرے، آپ کیسے اعتراض کر سکتے ہیں؟
البتہ جب اعظم نذیر تارڑ اور عطا تارڑ اور محسن نقوی پریس کانفرنس کر رہے تھے اور وزیرِ قانون بار بار سبز کتاب دکھا کر آئین کا ذکر کر رہے تھے تو جون ایلیاء کا یہ شعر بہت شدت سے ابھرا کہ،
اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر
کاش اس زبان دراز کا منہ نوچ لے کوئی
آپ اس میں اگر وفا کی جگہ آئین پڑھیں گے تو شائد آپ کے بھی دل کی کچھ بھڑاس نکل جائے۔
دل حزن و تاسف سے بھرا ہے کہ ہندوؤں کے احتجاج تو آئینی حقوق بحال کرواتے دلھائی دیتے ہیں مگر پاکستان کی انفرادی بے بسی اور اجتماعی بے حسی ایک ایک کر کے اپنے اعضاء تو کٹوا لے گی مگر آئینی حقوق تو کیا خود آئین ہی کو نہیں بچا سکے گی۔
اے دیس سے آنے والے بتا کس حال میں ہیں یارانِ وطن
علمی، ادبی، مذہبی، سیاسی اور سماجی موضوعات
متعلقہ
جسم و جاں تک یہ آگ آ پہنچی، از، مونا فاروق
بارہ سیٹیں ،تیرہ تال،اور چودہ طبق۔ طاہر احمد بھٹی
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم، از قلم،حافظ مظفر احمد