اب تک سامنے آنے والے حقائق اور نقطہ ہائے نظر کا خلاصہ یہ ہے کہ،
آزاد کشمیر میں کمیٹی کی کال کا اثر حکومتی احکامات کے مقابل پر کئی گنا زیادہ نظر آتا ہے۔
اداروں اور مظاہرین کے مابین مسلح تصادم میں بارہ افراد کی جان جا چکی ہے، مگر بارہ سیٹیں تا حال زندہ ہیں۔
آزاد کشمیر کے احتجاج میں شامل افراد اور ان کے راہنما غدار اور بھارت کے ایجنٹ قرار دئے جا چکے ہیں اور اب اس الزام پر نفرت اور غداری ہی کی دیوار اٹھائی جائے گی۔
پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھی جا چکی ہے اور ارباب اختیار کی زندگی اور بقاء اسی کج بنیاد پر فلک بوس کج روی اور کج بحثی کی دیوار بلند کرتے چلے جانے میں ہے۔
اپنے دفاع میں جو طرز عمل اور حکومتی، انتظامی اور آئینی نظیر پیش کی جا رہی ہے یا پیش کی جائے گی وہ سرحد پار مودی حکومت اور بھارتی اٹیبلشمنٹ اور معاشرتی جبر سے کشید کی جا رہی ہے۔
جس طرح مذہبی دائرے میں دوسری آئینی ترمیم اور اس کی بنیاد پر صدارتی آرڈیننس سن انیس سو چوراسی غلط اینٹ اور بنیاد پر اٹھائی گئی دیوار تھی مگر اکثریتی جھوٹ کو اقلیتی حق اور سچ پر بذریعہ اسٹیبلشمنٹ غالب کر کے آئینی حقوق کے منہ پر کالک توپ دی گئی اور اس سیاسی و آئینی گند پر ملائیت اور اکثریتی جہالت کو پہرے پر بٹھا دیا گیا اور اندر خانے مفاد پرستوں کے مفادات ملکوں ملکوں جائیدادوں اور سرمائے کے ڈھیروں کی صورت میں بڑھتے گئے اور اقتدار باقیات ضیاء، بھٹو کے مجاوروں اور فضل الرحمن ٹائپ ملائیت کے پاس ہی رہا۔
اتنے بڑے وسیع تر مفاد والے فیصلے کا اثر عوام کی جیب اور پیٹ تک صرف معکوس اور منفی طور پر اترا اور مملکت دن بدن کمزور اور مقروض ہوئی اور پیداوری گروتھ کی بجائے غیر ملکوں میں گروی ہیومن ریسورس سے معیشت اتنی چلتی رہی کہ آئی ایم ایف سے مسلسلسل مقروض ہو سکنے کی اہل قرار پا سکے۔
اب آئیے پولیٹیکل انجینیرنگ کی طرف۔ بلوچستان میں یہ ہوتی ہے مگر صوبہ سرداروں کی رکھیل ہے اور عوام الناس بے قیمت ہیں اس لئے ایسا ہو سکا۔
سندھ اقتدار کے لحاظ سے سودے بازوں کی بساط ہے اس لئے چل رہا ہے۔
کشمیر کا انسانی فائیبر مقامی طور پر فعال اور بین الاقوامی طور پر با اثر اور با شعور ہے اور تین دن میں پچاس ایم پیز کے دستخط لینے کی پوزیشن میں ہے تو وہ نہیں مان رہے۔
رانا ثنا اللہ کے ساتھ بیٹھے ندیم افضل چن کہتے ہیں کہ کشمیر وفاق سے کنٹرول ہوتا ہے اس لئے بارہ سیٹیں۔
سابق آئی جی اعزاز سید کے پروگرام میں تفصیل سے بتا چکے۔
ڈان میں وسعت اللہ خان اور ضرار کھوڑو بات نہیں کر سکے مگر سوشل میڈیا پر وسعت اللہ شیئر کر کے اوپر کیپشن دیتے ہیں کہ خود ہی سن لیں۔
البتہ ایک جملہ ایسا ہے جس کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔
کسی نے کہا کہ ، جو کشمیری پچھلی سات دہائیوں سے انڈین سفارت خانے کے سامنے جلوس نکالتے تھے اس کو پاکستان کی ایک حماقت اور ہٹ دھرمی نے پاکستان کے سفارت خانوں کے سامنے گھسیٹ لیا ہے۔
فاعتبرو یا اولی الباب۔
البتہ مذاکرات کی امید لگانے والے صرف اس بات پر غور کریں کہ جو نادیدہ طاقتیں پورا پچیس کروڑ عوام اور لاکھوں مربع میل کا ایٹمی طاقت رکھنے والا ملک پولیٹیکل انجینیرنگ اور کٹھ پتلی وزیر اعظم و وزراء اعلی سے چلا رہے ہیں اور ان کو نا تو شرم ہے اور نا ہی خوف خدا وہ ایک ضلعے جتنا خطہ اور مسلسل کٹھ پتلی سسٹم کو خود مختاری کیسے دے سکتے ہیں۔ یہ ان کے لئے واقعی موت زندگی کا سوال ہے۔ آئین اور قانون صرف دکھانے کے دانت ہیں۔
حب الوطنی سے بہت پہلے خدا اور خدا کے رسول سے تعلق میں جو ریاست آپ کے عقیدے تک کی دلال بن چکی ہو اور اس غیر آئینی غیر سیاسی اور غیر انسانی حماقت پر فخر کرتی ہو وہ آپ کی بارہ سیٹوں کو لے کر خدا خوفی اور آئین کی بالا دستی پر اتر آئے گی؟ایسا کیسے ہو سکتا ہے، کیونکہ،
معاملہ ہی کیا ہو اگر زیاں کے لئے ۔۔۔
البتہ، اگر عوام چاہتے ہیں کہ ان پر حکومت باہمی طور پر متفق آئین اور دستور کے مطابق ہونی چاہئے تو پھر انسانیت کے لئے قابل قبول تاریخی دستور کو اپنے دل و دماغ میں جگہ دینی ہو گی اور قریب ترین تاریخ میں اپنے محسنوں پر لعنت بھیجنے کا جو وطیرہ خود کشمیریوں نے اختیار کیا اور اس پر فخر کیا اس تاریخی جھوٹ اور کمینگی سے آپ کو خود بھی باہر آنا پڑے گا۔
آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے پہلے صدر اور اقوام متحدہ میں کشمیر کے حق میں انتھک محنت کے ساتھ آپ کا مقدمہ لڑنے والے کو آپ نے جس ڈھٹائی سے اپنے نصابوں اور اپنی نسلوں کے حافظے سے کھرچا ہے اس کی پاداش میں آپ کو نصاب کی جگہ قصاب اور حافظے کی جگہ حافظ دئے گئے ہیں۔ تحریک چلائیں مگر منجی تھلے ڈانگ بھی پھیرتے رہیں۔
علمی، ادبی، مذہبی، سیاسی اور سماجی موضوعات
متعلقہ
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم، از قلم،حافظ مظفر احمد
Lifeline & Faultline of the world by; Mona Farooq
صابر ظفر کے تازہ مجموعہ کلام کا تعارف، از بشیر احمد حبیب