رقص کرتے تھے الجھتے ہوئے زنجیر سے ہاتھ
ہائے وہ پھول لٹاتے ہوئے شمشیر سے ہاتھ
یوں دکھاتے ہیں اسے چاک گریباں اپنا
جیسے سچ مچ ہی نکل آئیں گے تصویر سے ہاتھ
لے ہمیں خاکِ تحیّر میں بکھرتا ہوا دیکھ
لے ، اٹھاتے ہیں تیرے خواب سے تعبیر سے ہاتھ
بد حواسی کا یہ عالم کہ اسے دیکھتے ہی
جانے کس رو میں ملانے لگے راہگیر سے ہاتھ
اس قدر غور سے کیا دیکھ رہے ہو ہم کو
ہم ملاتے ہیں میری جاں ذرا تاخیر سے ہاتھ
جاوید صبا
علمی، ادبی، مذہبی، سیاسی اور سماجی موضوعات
متعلقہ
Lifeline & Faultline of the world by; Mona Farooq
صابر ظفر کے تازہ مجموعہ کلام کا تعارف، از بشیر احمد حبیب
ادنی سے اعلی بد نیتی کا سفر، از، توصیف اکرم نیازی