تھام کر ہاتھ ایک سائے کا
ہو گیا ہوں، کسی پرائے کا
مجھ سے خالی کرا لیا گیا ہے
ہر نفس تھا ، مکاں کرائے کا
حسن اور عشق ، احترام کریں
کاش ، اک دوسرے کی رائے کا
پار کر دیکھا پاٹ ، میں نے بھی
عشق کی ایک ، آبنائے کا
دشت میں رات ہو گئی ہے ظفر
پوچھتا ہوں پتا ، سرائے کا
صابر ظفر
متعلقہ
Lifeline & Faultline of the world by; Mona Farooq
صابر ظفر کے تازہ مجموعہ کلام کا تعارف، از بشیر احمد حبیب
ادنی سے اعلی بد نیتی کا سفر، از، توصیف اکرم نیازی