اردو میں چند ماہیے
ماہیے کی دھن ذہن میں بہت دنوں سے بج رہی تھی۔ سو میں نے اردو میں کچھ ماہیے لکھے ہیں۔ اردو شاعری پڑھنے والوں کو ماہیے کو صحیح وزن میں پڑھنا شاید کچھ مشکل لگے، اس کا حل یہ ہے کہ یہ ماہیے آپ مشہور دھن “چٹا ککڑ بنیرے تے” پر گنگنا کے دیکھیں۔ جن کو عروض سے لگاو ہے ان کے لیے عرض ہے، کہ ان ماہیوں کا وزن ہے۔
فعلن فعلن فعلن
فعلن فعلن فع
فعلن فعلن فعلن۔
ماہیے
دل کو آباد رکھا
تو جو ملا ہم نے
تنہائی کو یاد رکھا
ہمیں ہم درپیش رہے
پہلو میں بھی ان کے
ہم دور اندیش رہے
کہتے رہے رہ رہ کے
ہوک سی اٹھتی ہے
ہم رہ گئے کہ کہ کے
بڑے کشٹ اٹھاتی ہے
یوں خاموش نہ ہو
آواز سی آتی ہے
دریا میں روانی ہے
آپ کا دھیان ہو تو
ہر مشکل پانی ہے
ہے چاند کواڑی* میں
میٹھی سی بندش ہوں
تم گا لو پہاڑی میں
۔۔۔
مدبر آسان قائل
*کواڑی۔ چھوٹا کواڑ، چھوٹی کھڑکی
متعلقہ
کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی، از، طاہر احمد بھٹی
جسم و جاں تک یہ آگ آ پہنچی، از، مونا فاروق
بارہ سیٹیں ،تیرہ تال،اور چودہ طبق۔ طاہر احمد بھٹی